کچھ باتیں مشہور مناظرے سے متعلقمفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان خدا کے وجود (The Existence of God) کے حوالے سے مناظرے کو مکمل دیکھنے کے بعد علم کلام اور فلسفہ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے چند ایک نکات عرض ہیں:
۱۔ مفتی صاحب نے بہت اچھی گفتگو کی۔ دلائل سے بات کی۔ میرے خیال سے وہ منطق اور فلسفہ خوب پڑھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بہتر دفاع کر پائے۔ اور پھر انگلش اور زبانِ روز پر تسلط ان کا پلس پوائنٹ تھا۔ ۲۔ جاوید اختر صاحب نے Faith اور Belief میں جو فرق بیان کیا وہ بالکل غلط ہے۔ وہ دین
برچسب: نویسنده: هیراد اکبریپور تاريخ: شنبه 31 مرداد 1405 ساعت: 8:00
جہادِ نفس اور اس کے غنائم نفس کے ساتھ جہاد کو جہاد اکبر قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ جہاد ہمیشہ اور ہر وقت جاری ہے۔ جہادِ اصغر مخصوص اور محدود وقت کے لیے ہوتا ہے جبکہ جہادِ اکبر کی مدت تا دمِ مرگ ہے۔ ایک طرف اس کے نفسانی خواہشات ہیں جو اسے برائی کی طرف دعوتے دیتے ہیں اور دوسری طرف عقل ہے جو اسے ہوائے نفس کی اطاعت اور منکر سے روکتے ہوئے بلند پروازی کی دعوت دیتی ہے۔ عام جنگ تلواروں، نیزوں، تیروں وغیرہ سے لڑی جاتی ہے جبکہ جہاد نفس کا ہتھیار علم، اندیشہ، معرفت، نیت اور ارادہ ہے۔
نفس، عقل کو ف
برچسب: نویسنده: هیراد اکبریپور تاريخ: شنبه 31 مرداد 1405 ساعت: 8:00
برہانِ قابلیت ووجوب اس بحث کی وجودی جہت (Ontological Aspect) کو معرفتی جہت (Epistemological Aspect) سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر علمی اور معرفتی حوالے سے واجب اور ممکن کا تصور ایک دوسرے پر موقوف ہے یا بہتر الفاظ میں تصور میں دونوں ایک ساتھ ہیں (بلکہ سارے فسلفی مفاہیم اسی طرح ہوتے ہیں، جیسے وجود اور عدم، علت اور معلول، قدیم اور حادث، متحرک اور ساکن) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وجودی طور پر بھی ایک دوسرے پر موقوف ہیں۔
برہانِ فرصت ووجوب کا سادھا سا مدعا یہ ہے کہ۱۔ آپ وجود کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر
برچسب: نویسنده: هیراد اکبریپور تاريخ: شنبه 31 مرداد 1405 ساعت: 8:00
ایک دن لقمان ایک چشمے کے کنارے بیٹھے تھے۔ وہاں سے گزرنے والے ایک آدمی نے ان سے پوچھا:"میں اگلے گاؤں تک کتنی دیر میں پہنچ جاؤں گا؟"
لقمان نے فرمایا:"چلتے رہو۔"وہ آدمی یہ سمجھا کہ شاید لقمان دیوانے ہیں، اس لیے وہ خاموشی سے چل پڑا۔جب وہ کچھ قدم آگے بڑھ گیا تو لقمان نے بلند آواز سے کہا:"اے آدمی! تم ایک گھنٹے بعد اُس گاؤں میں پہنچ جاؤ گے۔"آدمی نے حیران ہو کر پوچھا:"یہ بات آپ نے پہلے کیوں نہ بتائی؟"لقمان نے جواب دیا:"کیونکہ میں نے تمہارا چلنا نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم تیز چلتے ہو یا آ
برچسب: نویسنده: هیراد اکبریپور تاريخ: شنبه 31 مرداد 1405 ساعت: 8:00
ایک شخص حج کے سفر سے واپس آیا اور امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے سفر کی یادیں بیان کرنا آغاز کیں اور اپنے ایک ہمسفر کی بہت تعریف کی۔وہ جوش سے کہنے لگا:"یا ابنِ رسولؐ! اس سفر میں میرا ایک ایسا ہمسفر تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ نہایت متقی، عبادت گزار اور فرشتہ صفت انسان تھا۔ جب بھی ہم راستے میں آرام کے لیے رکتے، وہ فوراً ایک کونے میں جا کر اپنی جائے نماز بچھاتا اور نماز و عبادت میں مشغول ہو جاتا۔"
امام صادقؑ نے سکون سے اس کی بات سنی، پھر ایک سادہ سا سوال فرمایا:"جب وہ عبادت میں مشغو
برچسب: نویسنده: هیراد اکبریپور تاريخ: شنبه 31 مرداد 1405 ساعت: 8:00
ایک دن ایک شخص گھبرایا ہوا اور زرد چہرے کے ساتھ حضرت سلیمانؑ کے دربار میں حاضر ہوا۔ سلیمانؑ نے فرمایا:"اے مرد! تم اس قدر خوفزدہ کیوں ہو؟ تم پر کیا گزری ہے؟"وہ شخص کانپتی آواز میں بولا:"راستے میں میری ملاقات ملکُ الموت سے ہوئی۔ وہ مجھے نہایت سخت اور غضب ناک نگاہوں سے دیکھ رہا تھا، گویا میری جان لینے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اے اللہ کے نبی! آپ کو ہوا پر حکومت حاصل ہے، میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ ہوا کو حکم دیں کہ مجھے فوراً دور دراز ہندوستان پہنچا دے تاکہ شاید میں موت سے بچ سکوں۔"
حضرت سلیمانؑ کو اس پر
برچسب: نویسنده: هیراد اکبریپور تاريخ: شنبه 31 مرداد 1405 ساعت: 8:00